ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شموگہ میں بجرنگ دل کارکن کے قتل معاملے میں گرفتار شدگان 10ملزمین کے خلاف لگایا گیایو اے پی اے

شموگہ میں بجرنگ دل کارکن کے قتل معاملے میں گرفتار شدگان 10ملزمین کے خلاف لگایا گیایو اے پی اے

Tue, 08 Mar 2022 11:19:20    S.O. News Service

بنگلورو،8؍ مارچ (ایس او نیوز؍ ایجنسی)  کرناٹک حکومت نے بجرنگ دل کارکن کے قتل کے10ملزمین کے خلاف سخت ترین انسداد غیرقانونی سرگرمیاں قانون (یو اے پی اے) کی دفعات عائد کردی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب قتل کے ملزمین پر اس سخت ترین قانون کا اطلاق کیا گیا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ حکومت یہ کیس مقامی پولیس کی تحقیقات مکمل ہوتے ہی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے حوالے کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔ 

بتایا جارہا ہے کہ پولیس نے ہرشا کے قتل کے پس پردہ وسیع تر سازش پر غور کرتے ہوئے یو اے پی اے کی دفعات عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔  وزیر اعلیٰ  بسواراج بومئی نے کہا کہ یہ معاملہ قتل سے زیادہ ہے اور جو نظر آرہا ہے وہ اصل میں ہے نہیں۔

واضح رہے کہ یو اے پی اے پولیس کو ملزمین کو30دنوں تک اپنی تحویل میں لینے کا اختیار دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تحقیقاتی عہدیدار کو عام کیسس میں 90 دنوں کے بجائے 180دنوں میں چارج شیٹ داخل کرنے کا وقت بھی فراہم کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں چھ ماہ سے پہلے گرفتار شدگان کی ضمانت ممکن نہیں ہوتی۔ 

واضح رہے کہ بجرنگ دل کارکن 28سالہ ہرشا کو 20/ فروری کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا تھا جس کے بعد شیموگہ میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

دریں اثناء کرناٹک کے وزیر داخلہ اراگا گیانیندر نے وضاحت کی کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آ ف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر امتناع عائد کرنے کر متعلق حکومت کے پاس کوئی تجویز نہیں ہے۔

بی جے پی قائدین اور ہندوتوا کے کارکن ان دونوں تنظیموں پر امتناع عائد کرنے کا پُرزور مطالبہ کرچکے ہیں۔

مقتول ہرشا کے تعلق سے بتایا جارہا ہے کہ وہ ہندوتوا سرگرمیوں میں پیش پیش تھا اور سوشل میڈیا پر حجاب کے خلاف پیغامات پوسٹ کرنے میں فعال تھا۔ اگرچیکہ پولیس کا کہنا ہے کہ حجاب تنازعہ کا قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم بعد ازاں وزیر داخلہ اراگا گیانیندر نے کہا کہ ایجنسیاں اس زاویہ سے بھی تحقیقات کررہی ہیں۔ یاد رہے کہ ہندوتوا کے اس سرگرم کارکن کی موت پر ریاستی حکومت نے اس کی ماں کو 25 لاکھ روپئے کا معاوضہ پیش کرچکی ہے۔ 


Share: